مفتی منیب الرحمان نے سینئر اینکر محمد مالک کو کھری کھری سنا دیں
کل سے 50 ٹی وی چینلز نے مسجد اور نماز کوموضوع بنایا ہوا ہے، آپ مسجد اور نماز کو ٹارگٹ کررہے ہیں، لیکن بڑے بڑے اسٹورز اور معروف بیکریاں کھلی ہوئی ہیں
لاہور (7 اردو نیوز۔ 29 مارچ ، 2020) مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے مذہبی اسکالر جاوید غامدی کے ساتھ مباحثے کے چیلنج پر سینئر اینکر محمد ملک کو کھوری کھور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہ کل سے 50 ٹی وی چینلز نے مسجد اور نماز کوموضوع بنایا ہوا ہے ، آپ مسجد اور نماز کو نشانہ بنا رہے ہیں ، لیکن بڑے اسٹور اور معروف بیکری کھلی ہوئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ، اینکر پرسن محمد ملک نے اپنے ٹاک شو پروگرام میں مفتی منیب الرحمن سے بار بار پوچھ گچھ کی ، جس سے مفتی منیب الرحمان ناراض ہوگئے۔ اور کہا کہ اگر آپ مداخلت کرنا چاہتے ہیں تو پروگرام بند کردیں۔ محمد مالک مفتی منیب الرحمن پر زور دے رہے تھے کہ وہ مساجد بند کریں اور دعا کریں کہ وہ مذہبی اسکالر جاوید احمد غامدی کو منائیں۔
جس پر مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ میں نے کافی عرصے سے مناظرہ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ آپ لبرلز ہیں، آپ جس طرح بات کرنا چاہتے ہیں کریں اور جس کو مرضی بلا لیں۔ آپ لوگوں نے کل سے 50 ٹی وی چینلز نے مسجد اور نماز کوموضوع بنایا ہوا ہے، آپ مسجد اور نماز کو ٹارگٹ کررہے ہیں، لیکن بڑے بڑے اسٹور اور معروف بیکریاں کھلی ہوئی ہیں۔ لوگ اندر بیکریوں میں اندر آ جارہے ہیں، وہاں رش ہے کوئی بات نہیں کی جا رہی۔
اور مساجد نماز کو اجتماعی طور پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی مثبت پیغامات بھیجے گئے ہیں۔ لیکن آپ ڈکٹیٹ کررہے ہیں۔ اگر آپ مذہبی انقلاب لاسکتے ہیں تو بغیر تاخیر ابھی لے آئیں۔ جس پر محمد مالک نے کہا کہ ہم فیصلے نہیں کررہے،ہم تو سمجھنا چاہ رہے ہیں۔ مفتی منیب نے کہا کہ ہم بھی آپ جتنے ہی محبت وطن اورمحب انسانیت ہیں۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کرنے سے ہلاکتوں کی ذمہ داری وزیراعظم پر ہوگی، حکومت نے بہت سارا قیمتی وقت سوچ بچار اور شش وپنج میں ضائع کردیا، حکومت کو کورونا وباء پر قابو پانے کیلئے فوری مزید اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ واضح رہے پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 1526ہوگئی ہے، معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ ان میں 857کیسز ایران سے آئے ہیں۔
قرنطینہ سینٹرز میں 4 ہزار 365 افراد کے ٹیسٹ ہوچکے ہیں۔ پنجاب 558، سندھ 481، خیبرپختونخواہ 188، بلوچستان138، گلگت116، اسلام آباد 34 اور آزاد کشمیر میں 2افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ملک میں اب تک 13افراد کورونا سے جاں بحق ہوئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹے میں 2 افراد جاں بحق ہوئے۔جاں بحق افراد میں ایک کا تعلق لوئر دیر اور ایک کا کراچی سے ہے۔11افراد کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ پاکستان میں28مریض مکمل طور پر صحت یاب ہوچکے ہیں۔
جب حکومت غفلت کی نیند سو رہی تھی جماعت اسلامی اور الخدمت کے ہزاروں رضا کار قوم کی خدمت کیلئے میدان میں تھے ،سینیٹر سراج الحق
حکومت کا فرض تھا تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ایک متفقہ قومی لائحہ عمل تشکیل دیتی ظ اپوزیشن نے اپنی سطح پر ایک کوشش کی تھی مگر حکومت نے اس کو بھی سبوتاژ کردیا حکومت کے رویے نے قومی کو سخت نقصان پہنچایا ہے ،جو حکومت اب تک ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کو بھی وائر س سے بچائو کیلئے ضروری سامان نہیں دے سکی وہ رضا کاروں کو کیا دے گی A کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹر ز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو قوم خدمات کو خراج تحسین پیش کرتی ہے ،جے آئی یوتھ کے مرکزی ذمہ داران سے ویڈیولنک پر خطاب-
لاہور (اُردو - آن لائن۔ 29 مارچ2020ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے- کہ جب حکومت غفلت کی نیند سو رہی تھی جماعت اسلامی اور الخدمت کے ہزاروں رضا کار قوم کی خدمت کیلئے میدان میں تھے ۔اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے ہوئے تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ خدمت خلق کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹرز،نوجوان عزم کریں کسی پاکستانی کو بھوکا اور علاج کی سہولت کے بغیر نہیںمرنے دیں گے ۔
یہ وقت تعصب اور نفرت کا نہیں آپس میں جڑنے اور متحد ہونے کا ہے ۔حکومت کا فرض تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ایک متفقہ قومی لائحہ عمل تشکیل دیتی ۔اپوزیشن نے اپنی سطح پر ایک کوشش کی تھی مگر حکومت نے اس کو بھی سبوتاژ کردیا ۔ حکومت کے رویے نے قومی کو سخت نقصان پہنچایا ہے ۔
جو حکومت اب تک ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کو بھی وائر س سے بچائو کیلئے ضروری سامان نہیں دے سکی وہ رضا کاروں کو کیا دے گی۔
کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹر ز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو قوم خدمات کو خراج تحسین پیش کرتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جے آئی یوتھ کے مرکزی ذمہ داران سے ویڈیولنک پر خطاب اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر محمد افضل کی قیادت میں نورکنی وفد سے منصورہ میں ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل اظہر اقبال حسن مرکزی صدر جے آئی یوتھ زبیر گوندل دیگر ذمہ داران موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مرکزی حکومت جب سوئی ہوئی تھی جماعت اسلامی ملک بھر میں اپنے ہزاروں کارکنان کو منظم کرکے میدان میں اتار چکی تھی۔ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں ،نوجوان اپنے جواں عزم سے بڑے بڑے طوفانوں کا رخ موڑدیتے ہیں ۔ہم فرنٹ لائن پر قوم کی خدمت کرنے والے رضا کاروں اور فلاحی اداروں کے نوجوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں ۔
انہوںنے کہا کہ جماعت اسلامی نے پہلے دن ہی سے قوم سے اپیل کررہی ہے کہ اپنے تعلق کو اللہ سے مضبوط اور اجتماعی توبہ و استغفار کرنے کی ضرورت ہے ۔مکمل توجہ اور عاجزی و انکساری کے ساتھ اللہ کے دامن سے وابستہ ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے دروازے ہم پر کھول دے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اللہ نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا تو کوئی ہمارا ساتھ نہیں دے گا اس لئے ضرورت ہے کہ ہم بحثیت قوم اپنے رویے پر غور کریں۔
انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے وسائل قوم پر خرچ کرے ،انہوں نے جے آئی یوتھ کے ذمہ داران کو ہدایت کی کہ گلی اور محلے کی سطح پر خدمت کمیٹیوں اور منظم کریں اور نوجوانوں کو ان کمیٹیوں میں شامل کرکے ضرورت مندوں ،محتاجوں اور خاص طور پر معذور افراد کی خدمت اور دیکھ بھال پر مکمل توجہ دیں۔ سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرکاری اور غیر سرکاری ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل سٹاف کی زندگیاں خطرے میں گھری ہوئی ہیں، حکومت انہیں سبسڈی پر علاج کی خصوصی سہولیات مہیا کرے ۔
حکومت ابھی تک کورونا سے بچائو کیلئے کٹس ،این 95 ماسکس اورمعیاری اور محفوظ دستانوں جیسی بنیادی چیزیں بھی سرکاری ہسپتالوں کے عملے کو نہیں دے سکی،جو لوگ اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مریضوں کا علاج اور دیکھ بھال کررہے ہیں انہیں حفاظتی سامان بھی مہیا نہ کرنا حکومت کی غیر سنجیدگی اور ناکامی کا ثبوت ہے ۔ وفد نے بتایا کہ پیما کے پلیٹ فارم سے ایک سو سے زائد ڈاکٹر ز آن لائن ہمہ وقت کورونا سے بچائو کیلئے عوام کی راہنمائی کررہا ہے۔

0 Comments