امیر ممالک دنیا بھر کے غریب ممالک کو مالی مدد فراہم کریں. آکسفیم


امیر ممالک دنیا بھر کے غریب ممالک کو مالی مدد فراہم کریں. آکسفیم
افریقہ اور ایشیا کے غریب ممالک کے لیے کم سے کم 160 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی جائے.عالمی ادارہ


لندن(اردو اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 مارچ۔2020ء) عالمی فلاحی ادارے آکسفیم نے دنیا کے امیر ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کورونا جیسی وبا سے نمٹنے اور اس سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے دنیا بھر کے غریب ممالک کو مالی مدد فراہم کریں. آکسفیم کے مطالبے سے قبل ہی اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت سمیت دیگر فلاحی ادارے بھی اس طرح کا مطالبہ کر چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے کورونا سے متاثرہ ممالک کے لیے بھی 2 اب ڈالر امداد کی تقسیم کا آغاز کر دیا ہے

عالمی فلاحی اداروں کے علاوہ بھی امریکا جیسے امیر ممالک نے کورونا سے نبرد آزما ممالک کے لیے فنڈز کا اعلان کر رکھا ہے، تاہم آکسفیم نے مطالبہ کیا ہے کہ اب تک غریب ممالک کے لیے ہونے والے اعلانات سے بڑھ کر کام کرنے کی ضرورت ہے. رائٹرز تھومسن فاﺅنڈیشن کے مطابق آکسفیم نے 30 مارچ کو دنیا کے امیر ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ کورونا وائرس جیسی عالمی وبا سے نمٹنے والے غریب ممالک کے لیے بہت بڑی امداد رقم کی فراہم کریں رپورٹ کے مطابق آکسفیم نے دولت مند ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ افریقہ اور ایشیا کے غریب ممالک کے لیے کم سے کم 160 ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کریں

آکسفیم کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر کے تین ارب لوگ صاف پانی سے محروم ہیں جبکہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد بنیادی صحت کی سہولت سے بھی محروم ہیںعالمی ادارے کے مطابق غریب ممالک پہلے ہی صحت کی سہولیات اور مناسب خوراک سے محروم ہیں اور کئی ممالک میں رہنے والے مہاجرین بھی وبائی مرض کے نشانے پر ہیں اور وہاں کوئی بھی آئسولیشن مرکز نہیں.آکسفیم کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے جہاں دنیا بھر کے لاکھوں بچے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، وہیں اس وبا سے 70 فیصد خواتین کے بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور خواتین دنیا بھر میں صحت کی خدمات سر انجام دینے سمیت دیگر کئی رضاکارانہ کام بھی تنخواہ کے بغیر سر انجام دیتی ہیں.آکسفیم نے دنیا کے امیر ترین گریڈ ٹوئنٹی (جی20) ممالک کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز سے نبھائیں اور وہ غریب ممالک کے لیے کم سے کم 160 ارب ڈالر کی فوری امداد کا اعلان کریں

عالمی ادارے نے دنیا کے دولت مند ممالک پر زور دیا کہ وہ افریقہ سمیت جنوبی ایشیائی ممالک سمیت جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے لیے کورونا سے نمٹنے کے لیے مالی امداد کا اعلان کریں عالمی ادارے نے کہا کہ اس وقت غریب ممالک کی 40 فیصد آبادی صاف پانی، غذائی قلت اور صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی کا شکار ہے اور وہاں پر مہاجرین کی بھی بہت بڑی تعداد ایسے ہی مسائل سے نبرد آزما ہے. آکسفیم کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے بھی 80 فیصد طلبا متاثر ہوئے ہیں اور وہ کئی ہفتوں سے تعلیم سے محروم ہیں تاہم غریب ممالک کے طلبہ سکول کھلنے کے بعد بھی نشانے پر ہوں گے اس لیے ایسے ممالک کی مدد کی جانی چاہیے


Post a Comment

0 Comments