سپریم کورٹ نے کورونا وائرس کی وجہ سے قیدیوں کی رہائی کو روک دیا-
ملک کو کورونا وائرس کی وجہ سے کن حالات کا سامنا ہے سب پتہ ہے تاہم اس طرح قیدیوں کی رہائی کی اجازت نہیں دے سکتے،چیف جسٹس گلزار احمد-

اسلام آباد(اردو تازہ ترین اخبار-30مارچ2020ء) سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر کیس کی سماعت ہوئی ہے جس کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے کسی بھی قیدی کو رہا نہ کیاجائے۔عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 408 قیدیوں کے رہائی کے فیصلے اور دیگر عدالتوں کی جانب سے رہائی کے فیصلوں پر عملدرآمد کو روک دیا ہے۔
اس موقع پر چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ہ ملک کو کورونا وائرس کی وجہ سے کن حالات کا سامنا ہے سب پتہ ہے تاہم اس طرح قیدیوں کی رہائی کی اجازت نہیں دے سکتے، دیکھنا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے کس اختیار کے تحت قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا، ہائی کورٹس سو موٹو کا اختیار کیسے استعمال کر سکتی ہیں؟پریم کورٹ نے وفاقی، تمام صوبائی حکومتوں، چیف کمشنر اسلام آباد،ڈی سی اسلام آباد ،آئی جی پی اسلام آباد، سیکرٹری داخلہ، نیب، آئی جی جیل خانہ جات کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت یکم اپریل تک ملتوی کردی۔
ساتھ ہی ساتھ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی قیدی کو کورونا وائرس کی وجہ سے رہا نہ کیا جائے۔ یاد رہے کہ ملک بھر میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے خطرات کا مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کاحکم دیا گیا تھا جس کو اب سپریم کورٹ کی جانب سےروک دیا گیا ہے۔ پوری دنیا میں تباہی مچانے والے کورونا وائرس نے اس وقت پاکستان میں اپنی تباہی کا سلسلہ شرو ع کیا ہوا ہے جس کے بعد ابھی تک ملک بھر میں 1600 افراد اس سے متاثر ہو گئے ہیں جبکہ 17 افراد اس کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔حکومت کی جانب سے پھیلتے ہوئے کورونا وائر س کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے ۔ اسی وجہ سے ملک کے چاروں صوبوں میں مکمل لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا اور فوج کو طلب کر لیا گیا تھا تا کہ لوگوں کو گھروں سے نکلنے سے روکا جا سکے کیونکہ اس کا یہی حل ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے نہ ملیں۔ دوسری جانب پوری قوم ہمارے ڈاکٹروں، نرسوں اورپیرا میڈیل اسٹاف کی طرف دیکھ رہی ہے کیونکہ اس مشکل وقت میں انہو ں نے ہی کام کرنا ہے۔
اسلام آباد(اردو تازہ ترین اخبار-30مارچ2020ء) سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر کیس کی سماعت ہوئی ہے جس کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے کسی بھی قیدی کو رہا نہ کیاجائے۔عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 408 قیدیوں کے رہائی کے فیصلے اور دیگر عدالتوں کی جانب سے رہائی کے فیصلوں پر عملدرآمد کو روک دیا ہے۔
اس موقع پر چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ہ ملک کو کورونا وائرس کی وجہ سے کن حالات کا سامنا ہے سب پتہ ہے تاہم اس طرح قیدیوں کی رہائی کی اجازت نہیں دے سکتے، دیکھنا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے کس اختیار کے تحت قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا، ہائی کورٹس سو موٹو کا اختیار کیسے استعمال کر سکتی ہیں؟پریم کورٹ نے وفاقی، تمام صوبائی حکومتوں، چیف کمشنر اسلام آباد،ڈی سی اسلام آباد ،آئی جی پی اسلام آباد، سیکرٹری داخلہ، نیب، آئی جی جیل خانہ جات کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت یکم اپریل تک ملتوی کردی۔
ساتھ ہی ساتھ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی قیدی کو کورونا وائرس کی وجہ سے رہا نہ کیا جائے۔ یاد رہے کہ ملک بھر میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے خطرات کا مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کاحکم دیا گیا تھا جس کو اب سپریم کورٹ کی جانب سےروک دیا گیا ہے۔ پوری دنیا میں تباہی مچانے والے کورونا وائرس نے اس وقت پاکستان میں اپنی تباہی کا سلسلہ شرو ع کیا ہوا ہے جس کے بعد ابھی تک ملک بھر میں 1600 افراد اس سے متاثر ہو گئے ہیں جبکہ 17 افراد اس کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔حکومت کی جانب سے پھیلتے ہوئے کورونا وائر س کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے ۔ اسی وجہ سے ملک کے چاروں صوبوں میں مکمل لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا اور فوج کو طلب کر لیا گیا تھا تا کہ لوگوں کو گھروں سے نکلنے سے روکا جا سکے کیونکہ اس کا یہی حل ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے نہ ملیں۔ دوسری جانب پوری قوم ہمارے ڈاکٹروں، نرسوں اورپیرا میڈیل اسٹاف کی طرف دیکھ رہی ہے کیونکہ اس مشکل وقت میں انہو ں نے ہی کام کرنا ہے۔

0 Comments